واشنگٹن:
وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی ایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر کی تقریب کے دوران اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول کو سیکیورٹی ادارے نے فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک زوردار دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دیں جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر حاضرین کو نیچے رہیں کی ہدایت دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو اپنے حصار میں مرکزی اسٹیج سے باہر لے گئے۔
رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کاؤنٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر تعینات ہو گئے اور ہال کے پچھلے حصے کی جانب اسلحہ تان لیا گیا۔
اس دوران کئی مہمان خوف کے باعث میزوں کے نیچے چھپ گئے جبکہ کچھ کو تیزی سے باہر نکالا گیا۔
واقعے کے بعد اعلیٰ حکام کو بھی فوری طور پر نکال لیا گیا جن میں امریکی خاتون اول، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس، امریکی کابینہ کے ارکان سمیت پیٹ ہیگسیتھ اور کاش پٹیل شامل ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق تقریباً پانچ گولیوں جیسی آوازیں سنائی دیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
جبکہ روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اور مبینہ طور پر ایک شوٹر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
عمارت کو چاروں طرف سے سیکیورٹی اہلکاروں نے تاحال گھیرے میں لے رکھا ہے جبکہ فضا میں ہیلی کاپٹرز بھی گردش کر رہے ہیں۔
واقعے کے بعد ہال میں موجود ہزاروں افراد کو کچھ دیر تک لاک ڈاؤن کی صورتحال میں رکھا گیا جبکہ ماحول میں شدید خوف و ہراس پایا گیا۔ صورتحال کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ میری خواہش ہے کہ تقریب جاری رہے مگر حتمی فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رہنمائی میں کیا جائے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہمیں ہدایت دی ہے کہ ہم فوری طور پر مقام خالی کریں، جو کہ ضابطے کے مطابق ہے، اور ہم فوراً ایسا ہی کر رہے ہیں۔ میں 30 منٹ میں وائٹ ہاؤس کے پریس بریفنگ روم سے پریس کانفرنس کروں گا۔
خاتونِ اول، نائب صدر اور تمام کابینہ ارکان مکمل طور پر محفوظ اور خیریت سے ہیں۔ ہم آپ سے آدھے گھنٹے میں گفتگو کریں گے۔
میں نے تقریب کے ذمہ دار تمام حکام سے بات کر لی ہے اور ہم اس تقریب کو آئندہ 30 دنوں کے اندر دوبارہ شیڈول کریں گے۔

Muhammad Ramzan is a Pakistani journalist, digital content creator, and blogger with 7 years of experience in online media. He writes clear, well-researched, and easy-to-read articles on Islamic topics, Ramadan initiatives, government welfare programs, and community issues. Known for his authentic and heartfelt style, he connects deeply with readers across Pakistan.




