امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کے حوالے سے مثبت پیش رفت کے اشارے سامنے آ رہے ہیں، اس معاملے میں بھی پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، پاکستان مسلسل دونوں ممالک کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے، اس حوالے سے اہم پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اگلے روز اسلام آباد پہنچے ہیں جب کہ امریکا نے بھی اپنا وفد پاکستان بھیجا ہے ۔
میڈیا کی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب اسلام آباد پہنچے تو ایئرپورٹ پر وزیرخارجہ اسحاق ڈار اورفیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان کا استقبال کیا۔ بعدازاں انھوں نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اہم ملاقات کی ہے جب کہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی ہے۔ ان ملاقاتوں میں ایران ،امریکا مذاکرات کے حوالے سے امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ بڑی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اس سے نظر آتا ہے کہ معاملات خاصے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ادھر ایران سے یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ تہران ایئرپورٹ بین الاقوامی پروازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
تہران ایئرپورٹ سے مسقط، مدینہ اور استنبول کے لیے پروازیں روانہ ہوئی ہیں۔ یہ ایک بہت ہی اچھا اشارہ ہے۔ ا سے بھی واضح ہوتا ہے کہ خلیج میں جنگ کا ماحول تو موجود ہے تاہم باقاعدہ جنگ بندی قائم ہے اور اب معاملات نارملائزیشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
امریکا کے رویے میں بھی تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ یورپی یونین کے پلیٹ فارم سے بھی ایسے اشارے مل رہے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے کے لیے پس پردہ کوششیں بھی ہو رہی ہیں اور اس میں پیش رفت بھی نظر آ رہی ہے۔
پاکستان روانگی سے قبل ایرانی وزیرخارجہ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔
اس رابطہ کے بعد سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر اپنی پوسٹ میں ایرانی وزیرخارجہ نے لکھا کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، دوروں کا مقصد شراکت دار ممالک کے ساتھ دوطرفہ امور پر قریبی رابطہ اور مشاورت ہے، علاقائی صورتحال اور تازہ پیش رفت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کرنا ہے، ہمارے پڑوسی ممالک ہماری اوّلین ترجیح ہیں، ایران خطے میں تعاون، رابطوں اور سفارتی مشاورت کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سید عباس عراقچی نے اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلیفون پر جنگ بندی سے متعلق امور پر گفتگوکی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسحاق ڈارکے ساتھ گفتگوکی تفصیلات کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں حالیہ پیش رفت، جنگ بندی اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے فاکس نیوزسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانیوں سے مذاکرات کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نئے مذاکراتی دور میں شرکت نہیں کریں گے البتہ وہ اسٹینڈ بائی پر ہوں گے، ضرورت پڑی تو وزیرخارجہ مارکو روبیو بھی پاکستان جاسکتے ہیں۔
انھوں نے کہا صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارت کاری کو ایک موقع دینے کے لیے تیار رہتے ہیں، انھوں نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر ’لچک کا مظاہرہ کیا ہے ، امریکا کو امید ہے کہ اس ملاقات سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
امریکی ٹی وی سی این این نے دو امریکی اہلکاروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس فی الوقت ان مذاکرات میں شرکت کا منصوبہ نہیں رکھتے کیونکہ ایرانی کے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ان مذاکرات میں شامل نہیں ہو رہے۔
حالات وواقعات کو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد امن مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ ہو گا۔ امریکا کی لاجسٹک اور سکیورٹی ٹیم پہلے ہی مذاکراتی عمل کے لیے اسلام آباد میں موجود ہے۔
جب سے خلیج میں جنگ جاری ہے، اس وقت سے پوری دنیا پریشانی میں مبتلا ہے۔ گو ابھی جنگ بندی قائم ہے لیکن حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ امریکا نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، ادھر ایرانی پاسداران بھی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو روک رہے ہیں۔
اس صورتحال کی وجہ سے پوری دنیا کی تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے جب کہ دنیا میں پٹرولیم مصنوعات اور خوراک کے بحران میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان سمیت ساؤتھ ایشیا کی سارے ممالک میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جب کہ یورپ اور چین بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ادھر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عوام کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث مزید کچھ عرصے تک پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی کمپنیاںآیندہ 18 ماہ کے اندر وینزویلا میں کام شروع کردیں گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا بھی اس جنگ سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ امریکی دفاعی نظام میں اسلحہ اور میزائلوں کی کمی کے باعث امریکا کو اپنی فوجی ترجیحات کے حوالے سے مشکل فیصلوں کا سامنا ہے۔
امریکی اخبار دی نیو یار ک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطی میں جاری کشیدگی کے باعث امریکی دفاعی ذخائر میں کمی آئی ہے۔ رپورٹ میں دفاعی ماہرمارک ایف کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکا کے پاس اگرچہ مجموعی طور پر اسلحہ موجود ہے، تاہم کچھ اہم زمینی حملوں اور میزائل دفاعی ہتھیاروں کی کمی پہلے ہی تھی، جو اب مزید بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کمی کا براہِ راست اثر ایشیا میں امریکی افواج کی جنگی تیاری پر بھی پڑ سکتا ہے۔ امریکا نے حالیہ تنازع میں بڑی تعداد میں جدید میزائل استعمال کیے، جن میں ٹوماہاک میزائل بھی شامل ہیں، جب کہ تھاڈ میزائل دفاعی نظام اور پیٹریاٹ میزائل سسٹم کے ہزاروں انٹرسیپٹر میزائل بھی استعمال کیے گئے۔
صورتحال امریکا کے لیے اسٹریٹجک سطح پر بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ ان حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ امریکا بھی جنگ سے نکلنا چاہتا ہے۔ ادھر ایران کی بھی یہی کوشش ہے کہ جنگ کا مستقل خاتمہ ہو جائے۔
اہم مسئلہ یہ ہے کہ دونوں کے لیے حتمی معاہدہ کیسے وِن وِن پوزیشن میں تبدیل کیا جائے۔ ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اوول آفس میں اسرائیل اور لبنان کے سفیروں سے ان کی ملاقات مثبت اور تعمیری رہی۔
انھوں نے نئے معاہدے کے حوالے سے کہا کہ یہ سو فیصد نہیں ہے۔ امید ہے لبنانی فوج اس جنگ بندی کو حقیقت میں نافذ کرنے اور اس پر عمل کرانے کے قابل ہو گی۔ یہ بھی ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ ایران کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ مذاکراتی عمل میں حزب اللہ کے لیے بھی جنگ بندی کی جائے۔
یوں دیکھا جائے تو بھی کہا جا سکتا ہے کہ معاملات بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔ اس وقت دنیا کے لیے خلیج میں امن انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ آبنائے ہرمز میں تناؤ کے باعث دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان تجارتی جہازوں کی پکڑ دھکڑ اور جوابی اقدامات کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے عالمی مہنگائی میں اضافہ اور اقتصادی دباؤ میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ عالمی منڈی میں قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے پاکستان میں بھی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک دفعہ پھر بڑا اضافہ کردیا ہے، پیٹرول اور ڈیزل فی لیٹر 26 روپے 77 پیسے مہنگا کر دیا گیا ہے۔
حکومت نے یہ اضافہ اگلے ہفتہ کے لیے کیا ہے۔ وزیر پٹرولیم نے کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ اور عالمی شراکت داروں سے معاہدوں کی وجہ سے حکومت کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ منتقل کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔
اقوام عالم کی نظریں امریکا اور ایران کی قیادت پر ٹھہری ہوئی ہیں۔ سب کی خواہش ہے کہ مستقل جنگ بندی ہو جائے۔ اس حوالے سے پاکستان جو کردار ادا کر رہا ہے، پوری دنیا میں اس کی تحسین جاری ہے۔ ایرانی قیادت بھی پاکستان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہی ہے جب کہ امریکا کو بھی پاکستان پر پورا اعتماد ہے۔
اسلام آباد میں جو حالیہ پیش رفت ہو رہی ہے، یقینا اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ اس حوالے سے عوامی جمہوریہ چین اور روس کا کردار بھی خاصا اہم ہے جب کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملک بھی جنگ بندی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ امید یہی ہے کہ اسلام آباد میں جو سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں، وہ آنے والے وقت میں مستقل جنگ بندی کا باعث بن جائیں گی۔

Muhammad Ramzan is a Pakistani journalist, digital content creator, and blogger with 7 years of experience in online media. He writes clear, well-researched, and easy-to-read articles on Islamic topics, Ramadan initiatives, government welfare programs, and community issues. Known for his authentic and heartfelt style, he connects deeply with readers across Pakistan.




