اسلام آباد:
پاکستان اور یورپی یونین نے آٹھویں پاکستان یورپی یونین اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کے دوران تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے اور اسکو وسعت دینے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالاس نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور آٹھویں پاکستان یورپی یونین اسٹرٹیجک ڈائیلاگ میں شرکت کی جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرخارجہ اسحق ڈار سے بھی ملاقاتیں کی جن میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال، دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور اعلی سطح کے رابطوں کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔
کاجا کالاس نے پاکستان کو ایک اہم علاقائی طاقت اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار قرار دیا جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہا، یہ سات سال میں یورپی یونین کے خارجہ پالیسی سربراہ کا پہلا دورہ پاکستان تھا۔
دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا نواں اجلاس آئندہ سال برسلز میں منعقد کیا جائے گا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات کے فروغ میں جی ایس پی پلس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ کثیر الجہتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے سٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کے انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تجارت و سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، سلامتی، ہجرت، پائیدار ترقی اور رابطہ کاری سمیت اہم شعبوں میں یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے خلیج میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کی یورپی یونین کی جانب سے بھرپور حمایت پر یورپی یونین کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری بشمول یورپی یونین، کی اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔ وزیراعظم نے جنوبی ایشیا کی علاقائی صورتحال اور افغانستان سے متعلق پاکستان کے موقف سے بھی یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کو آگاہ کیا۔
قبل ازیں اسحاق ڈار اور کاجا کالاس نے پاکستان یورپی یونین سٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کی، اس موقع پر باہمی تعلقات کے تمام پہلوئوں، سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جس میں تجارت، سرمایہ کاری اور ترقی، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی، ہجرت اور نقل و حرکت، نیز سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی جیسے شعبے شامل ہیں جبکہ دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔
دونوں فریقوں نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے اور علاقائی استحکام برقرار رکھنے کے لیے مکالمے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق کالاس نے پاکستانی وفد کو یورپی یونین کے نئے GSP پلس ضابطے کے بارے میں آگاہ کیا جبکہ پاکستان نے اس میں شامل ہونے میں اپنی گہری دلچسپی ظاہر کی۔
اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، بالخصوص غزہ اور لبنان میں ہونے والی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں فریقوں نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائی جائے، جنگ بندی سے متعلق وعدوں پر عمل درآمد کیا جائے اور دو ریاستی حل کے قیام کی جانب پیش رفت کی جائے۔
کاجا کالاس نے اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو ایک اہم علاقائی طاقت اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور پاکستان یورپی یونین کے جی ایس پی پلس پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے تاہم انہوں نے زور دیا کہ اس سہولت تک مسلسل رسائی کا انحصار گورننس، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی معیار اور انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی وعدوں پر عمل درآمد میں پیش رفت پر ہے۔
کاجا کالس نے امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کو پورے یورپ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ان اقدامات نے مکمل جنگ کے خدشے کو ٹالنے میں مدد دی ہے۔ یورپی یونین ایک پائیدار اور پرامن حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔انہوں نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا بھی مطالبہ کیا۔
دونوں رہنمائوں نے تجارت، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، صاف توانائی، ہجرت، نقل و حرکت اور عوامی روابط، بالخصوص ایراسمس منڈس اسکالرشپ پروگرام کے ذریعے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
کالاس نے پاکستان کی سلامتی کو درپیش چیلنجز کو تسلیم کیا اور کہا کہ اسلام آباد کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے اور اپنے عوام کے دفاع کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے احتیاط اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کرتے ہوئے انتباہ کیا کہ طویل تنازع عدم استحکام اور انتہاپسندی میں اضافہ کر سکتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لئے سود مند ہے،اسحاق ڈار نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہنے اور معاون کردار ادا کرنے پر یورپی یونین کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے بھارت کی بلااشتعال جارحیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ اس تنازعہ کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہئے۔
سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کا موقف ثالثی عدالت کے اضافی فیصلے کے بعد درست ثابت ہوا ، کشمیریوں کے حقِ خودارادیت، سندھ طاس معاہدے اور بھارت کے ساتھ تنازع میں پاکستان کی حمایت پر بھی یورپی یونین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

Muhammad Ramzan is a Pakistani journalist, digital content creator, and blogger with 7 years of experience in online media. He writes clear, well-researched, and easy-to-read articles on Islamic topics, Ramadan initiatives, government welfare programs, and community issues. Known for his authentic and heartfelt style, he connects deeply with readers across Pakistan.




