سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں جاری

WhatsApp Channel Join Now

سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں جاری  ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی اہمیت، آبی وسائل کے تحفظ اور علاقائی تعاون سے متعلق بین الاقوامی سیمینار میں وفاقی وزراء، سیاسی رہنما، ماہرین اور متعلقہ حکام شرکت کررہے ہیں۔

سیمینار کے افتتاحی سیشن سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں “سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ” کے موضوع پر سیمینار سے خطاب میرے لیے اعزاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم ایک معاہدے پر نہیں بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کی شہہ رگ پر بات کر رہے ہیں۔ وادی سندھ کی تہذیب ہی ہماری اصل شناخت ہے اور ہم اس عظیم تہذیب کے وارث ہیں، پاکستان کے لیے پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ زندگی کا مسئلہ ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ہزاروں برس سے دریائے سندھ کا نظام دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی آبیاری کرتا آیا ہے، پاکستان کی تاریخ دراصل دریائے سندھ کی تاریخ ہے، زراعت قومی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور دریائے سندھ اس کی شہہ رگ ہے، چھ دہائیاں قبل دو ممالک نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا۔

عطا اللہ تارڑ نے فیصلے کے نتیجے میں سب سے پائیدار آبی معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا، پاکستان نے ہمیشہ پُرامن روابط، تعمیری مذاکرات اور معاہدے پر مخلصانہ عملدرآمد کے عزم کا مظاہرہ کیا، پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت پاکستان کے عوام کا حق بحال کرنے اور مؤثر جواب دینے کے لیے پرعزم ہے۔

1960 کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، پاکستانی قیادت بارہا واضح کر چکی ہے کہ پاکستان کے عوام کو دریائے سندھ کے پانی پر پورا حق حاصل ہے، بھارت نے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا، پاکستان ہر صورت اس معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرے گا، آج ہمیں اس عزم کا اظہار کرنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ برقرار رہے گا۔

اسلام آباد میں “سندھ طاس معاہدہ” کے موضوع پر بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہر علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے ہماری زراعت، خوراک اور معیشت جڑی ہوئی ہے، اور یہ معاہدہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن کے لیے ہے۔

مہر علی شاہ کے مطابق معاہدے میں مسائل کے حل کا جامع طریقہ کار موجود ہے اور مجموعی طور پر اس میں 12 شقیں شامل ہیں، جبکہ فریقین کو دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معلومات فراہم کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدے کے تحت مسائل حل نہ ہوں تو معاملہ ثالث کے پاس جاتا ہے، اور شق 9 کے تحت معاملہ عالمی ثالثی عدالت کے پاس بھی لے جایا جا سکتا ہے۔

مہر علی شاہ نے کہا کہ پاکستان متنازع بھارتی بجلی گھر کے معاملات پر دو بار ثالثی عدالت سے رجوع کر چکا ہے، اور عالمی ثالثی عدالت دو بار معاہدے کی وضاحت بھی کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثالثی عدالت واضح کر چکی ہے کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا، اور عدالت نے بھارت کو مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں خلل نہ ڈالنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

ان کے مطابق بھارت کا یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنا خلاف ورزی ہے، جبکہ بھارت اگست 2023 سے معاہدے پر عمل نہیں کر رہا۔

 



Source link

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!
Scroll to Top