برطانیہ میں انگریز نسل پرستوں کی ریلی کے دوران ایک متنازع واقعہ سامنے آیا جب چند خواتین نے اسٹیج پر آ کر اپنے برقعے اتار دیے جس کے بعد برطانیہ میں سیاسی اور سماجی بحث شدت اختیار کر گئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریلی میں شریک خواتین نے برقعہ اتارنے کے عمل کو خواتین کے حقوق اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف احتجاج قرار دیا۔
ریلی کے منتظمین اور بعض مقررین نے اس اقدام کو اسلام پسند دباؤ کے خلاف مزاحمت اور خواتین کی آزادی کی علامت قرار دیا، جبکہ ناقدین نے اسے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز سیاست سے تعبیر کیا۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ اکثر صارفین نے مذہبی لباس کو سیاسی تنازع میں استعمال کرنا معاشرتی تقسیم کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
🚨 JUST IN: Absolute FIRE at the Unite The Kingdom rally, brave women stormed the stage and publicly ripped off their burqas in a powerful stand against Islamist oppression!
Leftists are absolutely MELTING DOWN because this rally went full anti Islamist and pro women’s rights. pic.twitter.com/9uw8Ol0f7O
— Gunther Eagleman™ (@GuntherEagleman) May 16, 2026
برطانیہ میں حالیہ برسوں کے دوران امیگریشن، مذہبی آزادی، خواتین کے حقوق اور اسلاموفوبیا جیسے موضوعات پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور یہ واقعہ بھی اسی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔
تاحال برطانوی حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔

Muhammad Ramzan is a Pakistani journalist, digital content creator, and blogger with 7 years of experience in online media. He writes clear, well-researched, and easy-to-read articles on Islamic topics, Ramadan initiatives, government welfare programs, and community issues. Known for his authentic and heartfelt style, he connects deeply with readers across Pakistan.




