اسلام آباد کی سیاسی بیٹھک کے ممکنہ نتائج

WhatsApp Channel Join Now

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کی سیاسی بیٹھک عالمی اور علاقائی خطے سمیت پاکستان کے تناظر میں کافی اہمیت رکھتی تھی ۔اس بیٹھک کا سجنا ہی پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔اگرچہ اس بیٹھک سے فوری طور پر وہ نتائج نہیں مل سکے جس کی توقع کی جا رہی تھی اور ابتدائی مذاکرات کسی مشترکہ پریس کانفرنس یا مشترکہ اعلامیہ کی صورت میں سامنے نہیں آسکے۔

اصل میں عالمی سفارتی سطح پر جہاں تنازعات کی نوعیت پہلے سے بہت پیچیدہ ہوں وہاں فوری طور پر نتائج کی توقع رکھنا درست حکمت عملی نہیں تھی ۔یہ مسئلہ کچھ ہمارے میڈیا کی دوستوں کا بھی تھا جس نے اسلام آباد کا ماحول کچھ ایسا بنا دیا تھا کہ جیسے ان مذاکرات سے کوئی بڑی سطح کا بریک تھرو ہونے والا ہے ۔لیکن ایسا ممکن نہیں تھا۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تناظر میں پہلے سے موجود ماحول میں بڑی بداعتمادی تھی، وہ بھی ان مذاکرات میں دیکھنے کو ملی ہے ۔اصولی طور پر دونوں اطراف سے سخت گیر ایجنڈا تھا اور کوئی بھی اپنے ایجنڈا پر آسانی سے سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ۔البتہ یہ بات پاکستان کے لیے اچھی ہے کہ دونوں ممالک امریکا و ایران نے پاکستان کی ثالثی یا سہولت کاری کی تعریف کی اور کہا کہ حالات کی بہتری میں پاکستان کا کردار مثالی رہا ہے۔

ایران کے بقول ہمیں ماضی کے تجربات کی بنیاد پر امریکا پر وہ اعتماد نہیں ہے جو ہمیں درکار ہے ۔بار بار امریکا اور امریکی صدر کے بیانات میں تبدیلی اور ہمارے خلاف جارحیت یا ڈپلومیسی کے محاذ پر سخت لفظوں کے تبادلے نے ہمارے امریکا کے بارے میں پہلے سے موجود شکوک و شبہات میں اضافہ کیا ہے۔ اس لیے ان ابتدائی مذاکرات میں امریکا ہمارا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اصل میںکسی بھی سطح پر اگر کوئی فریق اپنا ایجنڈا دوسرے ملک پر مسلط کرے گا تو مفاہمت کا راستہ محدود ہوجاتا ہے ۔

اس لیے ایران کی سطح پر یہ موقف سامنے آیا ہے کہ یہ فیصلہ اب امریکا کو کرنا ہے کہ اس نے اپنے طرز عمل سے اب ہمارا اعتماد حاصل کرنا ہے یا پہلے سے موجود جو اعتماد سازی کا بحران ہے اس میں اضافہ کرنا ہے ۔امریکا نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ان ابتدائی بات چیت میں ایران نے ہماری شرائط کو ماننے سے انکار کردیا ہے ۔ لیکن ہم جلدی میں نہیں ہیں اور ہمیں ان مذاکرات سے کچھ سیکھ کر خود کو مزید بہتر پوزیشن پر لانا ہوگا۔ایک اور اچھی بات یہ ہے امریکا اور ایران نے اس بات کا کھل کر اشارہ کیا ہے کہ بات چیت کا عمل مزید جاری رہے گا اور پاکستان ان معاملات میں آگے بھی معاونت جاری رکھے گا۔ جو یقینی طور پر پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے کہ دونوں ممالک نے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا کردار اہمیت رکھتا ہے ۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ مذاکرات مختلف مراحل میں 21گھنٹے جاری رہے ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان1979کے انقلاب کے بعد سب سے اعلی سطح کا فیس ٹو فیس اجلاس تھا۔امریکا کے بقول ہم نے ایران کو سب سے زیادہ موجودہ حالات میں قابل قبول آفر کی تھی مگر اس نے اس پر انکار کردیا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فوری طور پر کوئی حتمی معاہدہ یا مستقل جنگ بندی نہیں ہوسکی ۔تاہم دونوں فریقوں نے یہ تسلیم کیا کہ کچھ نکات پر مفاہمت ہوئی ہے مگرکچھ پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔اگر ہم ان مذاکرات کے فوری نتائج کو دیکھیں تو اسے یقینی طور پر ناکامی کہا جاسکتا ہے کیونکہ کوئی مستقل امن معاہدہ سامنے نہیں آسکا اور نہ جنگ بندی کا کوئی حتمی فریم ورک طے ہوسکا۔

ایران کے بقول امریکا کے مطالبات غیر معقول اور وعدہ خلافی کے زمرے میں بھی آتے ہیں۔ہم اگر ان مذاکرات کی ابتدائی ناکامی کو دیکھیں تو اس میں آبنائے ہرمزجو کہ 20فیصد عالمی تیل کی سپلائی کا راستہ ہے۔امریکا اسے مکمل طور پر کھولنے اور بغیر کسی پابندی کے استعمال کا مطالبہ کر رہا ہے۔جب کہ ایران اس پر اپنے کنٹرول کو رکھنا چاہتا ہے ۔جوہری پروگرام پر امریکا کا مطالبہ ہے کہ ایران طویل مدت کے لیے نیوکلیئر ہتھیار بنانے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کردے مگر اس پر ایران انکاری ہے۔

اسی طرح ایران پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیوں، اثاثوں کا منجمند ہونا،علاقائی سلامتی بشمول لبنان، مستقبل میں حملوں کی روک تھام اور جنگ بندی جیسے امور شامل ہیں ۔اصل مسئلہ ابھی تک امریکا اور ایران کے درمیان موجود گہری بداعتمادی کا ہے اور ایران اپنی قوم کو ان مذاکرات کی بنیاد پر یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ انھوں نے کمزور شکل میں امریکا سے مفاہمت کی ہے ۔

جہاں تک امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تعلق ہے تو یہ امکان موجود ہے کہ اس کی کوئی نہ کوئی شکل مستقبل میں بھی جاری رہے گی اور ہمیں مذاکرات کا عمل اس بداعتمادی کے ماحول میں بھی دیکھنے کو ملے گا۔کیونکہ جنگ کے دوران یا سخت سے سخت بداعتمادی کے ماحول کی سطح پر فریقین اپنے دروازے ایک دوسرے کے لیے کھلے رکھتے ہیں۔ دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے سامنے اپنے مطالبات پیش کردیے ہیں ، یہ دیکھنا ہوگا کہ کون کس حد تک اپنے مطالبات پر ایک دوسرے کے لیے لچک دکھاتا ہے۔

اسی طرح ایران کے کردار میں چین کی بڑی اہمیت ہے اور دیکھنا ہوگا کہ ایران کو اپنے مستقبل کے تناظر میں جو ضمانتیں امریکا یا اسرائیل سے درکار ہیں اس میں چین کا کیا کردار ہوگا کیونکہ کسی بڑے ملک کی ضمانت کے بغیر ایران بھی آسانی سے امریکا پر اعتماد نہیں کرے گا۔اسی طرح سعودی عرب اور خلیجی ممالک اور ایران کی سطح پر جو بداعتمادی پیدا ہوئی ہے وہ کیسے کم ہوگی اور کیا مذاکرات کے اگلے مراحل میں خلیجی ممالک سمیت خود اسرائیل کو بھی کسی سطح پر شامل کیا جائے گا۔کیونکہ خلیجی ممالک نے تو کھل کر کہا ہے کہ وہ اس مذاکرات کا حصہ بننا چاہتے ہیں کیونکہ ہم خود اس جنگ کے فریق ہیں۔

کیونکہ خطرہ ابھی بھی موجود ہے کہ اگر جنگ عارضی جنگ بندی یا مستقل جنگ بندی میں تبدیل نہیں ہوتی تو یہ جنگ کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور اس کے جہاں سیکیورٹی مسائل پیدا ہونگے وہاں معیشت کی خرابی بھی دیکھنے کو ملے گی۔اسی طرح اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے کہ امریکا اور ایران میں ایسے سخت گیر مزاج کے لوگ موجود ہیں جو ایک دوسرے میں مفاہمت کے حامی نہیں اور خود اسرائیل اور بھارت کی سطح پر بھی یہ سوچ موجود ہے کہ حالات میں جہاں خرابی ہو وہاں بھارت پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارت کاری کے کردار کو بھی قبول کرنے سے عملی طور پر انکاری ہے۔

اس لیے اگر آنے والے چند ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ نہیں ہوتا تو جو سیز فائر ہے وہ ٹوٹ سکتا ہے جو حالات کو دوبارہ جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے ۔عمومی طور پر سفارت کاری کے محاذ پر پہلا راؤنڈ نتیجہ خیز نہیں ہوتا اور وہ بہت سی نئی مشکلات کو بھی سامنے لاتا ہے ۔ جیسے ہم نے حالیہ مذاکرات کے تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان دیکھے ہیں۔لیکن اس سے مایوس ہونے کی کسی بھی طور پر ضرورت نہیں بلکہ سفارت کاری کا عمل نئے امکانات کو جہاں پیدا کرتا ہے وہیں اس کی تلاش کے عمل کو بھی جاری رکھتا ہے ۔

سفارت کاری کا عمل اسی صورت میں کامیاب ہوگا جب پوری دنیا سے جڑے ممالک جو اس جنگ میں کسی نہ کسی شکل میں حصہ دار ہیں ایک دوسرے کے بارے میں سیاسی لچک کا مظاہرہ کریں اور ایک دوسرے کی قبولیت کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔کیونکہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہیں ۔اگر ہم نے جنگوں کی سیاست سے باہر نکلنا ہے تو بڑی طاقتوں کو دوسرے ملکوں کی خود مختاری کو قبول کرنا ہوگا اور ایک دوسرے پر طاقت کی بنیاد پر قبضہ کی جنگ کی حکمت عملی کو ہر سطح پر تبدیل ہونا چاہیے۔پاکستان کو اس موقع پر اپنے ثالثی کے کردار سے باہر نہیں نکلنا چاہیے۔اول ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم سب فریقوں سے مسلسل رابطے میں رہیں اور ان کو مستقل جنگ بندی پر قائل کریں۔

اس میں بیک ڈور چینل اور ڈپلومیسی اور کچھ تحریری تجاویز کو بھی بات چیت کا حصہ بنایا جائے۔دونوں ممالک کے درمیان موثر رابطہ کاری اور تعاون کے امکانات کو بڑھانا ،ممکنہ فارمولے کی تجاویز کو سامنے لانا، سول اور ملٹری سطح پر ڈپلومیسی کے عمل کو جاری رکھنا،چین کی معاونت حاصل کرنا ،جنگ بندی کو مستقل بنیاد پر ممکن بنانا،چھوٹے چھوٹے اعتماد سازی کے اہم اقدامات پر توجہ دینا، آبنائے ہرمز کا فارمولا تجویز کرنا ،علاقائی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں یا ممالک کی شمولیت ،سعودی عرب، قطر اور مصر کی سطح پر معاونت کا حصول اورخود کو توازن پر مبنی پالیسی سے جوڑے رکھنا پاکستان کی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔



Source link

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!
Scroll to Top