ٹرمپ نےوزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو غیرمعمولی شخصیات قرار دے دیا، مذاکرات کی تفصیل بھی بتا دی

WhatsApp Channel Join Now

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد مذاکرات میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں غیرمعمولی شخصیات قرار دیا اور ایران کے ساتھ ڈیڈلاک کا باعث بننے والے واحد مسئلے کا بھی تفصیل سے ذکر کردیا۔

امریکی صڈر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک اور بیان میں کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا اور جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا، اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے بہت سے لوگوں اور ممالک میں بے چینی اور تکلیف پیدا ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پانی میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں حالانکہ ان کی پوری بحریہ اور ان کے زیادہ تر بارودی سرنگیں بچھانے والے مکمل طور پر تباہ کردیے گئے ہیں، ممکن ہے انہوں نے ایسا کیا ہو لیکن کون سا جہاز مالک یہ خطرہ مول لینا چاہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ان کے باقی ماندہ رہنماؤں کی عزت بھی متاثر ہوئی ہے لیکن ہم اب ان سب باتوں سے آگے بڑھ چکے ہیں جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا، انہیں فوری طور پر اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کھولنے کا عمل شروع کرنا چاہیے اور تیزی سے کرنا چاہیے! وہ ہر قانون کی کتاب کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کی تعریف کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ مجھے نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر نے اسلام آباد میں پاکستان کی مہربان اور نہایت قابل قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہوئی ملاقات کی مکمل بریفنگ دی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ وہ غیر معمولی شخصیات ہیں اور مسلسل میرا شکریہ ادا کرتے رہتے ہیں کہ میں نے بھارت کے ساتھ ایک بدترین جنگ روک کر 3 سے 5 کروڑ جانیں بچائیں، میں یہ سن کرہمیشہ سراہتا ہوں کہ انسانیت کے بارے میں جو باتیں کی جاتی ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔

 

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ملاقات صبح سویرے شروع ہوئی اور پوری رات جاری رہی اور تقریباً 20 گھنٹے لگے، میں مکمل تفصیل میں جا سکتا ہوں اور بہت سی حاصل شدہ باتوں کا ذکر کر سکتا ہوں لیکن صرف ایک چیز اہم ہے ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی حوالوں سے طے پانے والے نکات اس بات سے بہتر ہیں کہ ہم اپنی فوجی کارروائیوں کومنطقی انجام تک پہنچاتے لیکن ان تمام نکات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی جب بات اس چیز کی ہو کہ جوہری طاقت ایسے غیر مستحکم، مشکل اور غیرمتوقع لوگوں کے ہاتھ میں چلی جائے۔

امریکی صدر نے کہا کہ میرے تین نمائندوں نے اس طویل دورانیے میں حیران کن طور پر ایران کے نمائندوں محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور علی باقری کے ساتھ دوستانہ اور احترام کے ساتھ تعلقات قائم کر بیٹھے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ سب سے اہم مسئلے پر سختی سے قائم رہے اور جیسا کہ میں نے بالکل شروع سے اور کئی سال پہلے کہا تھا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

Source link

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!
Scroll to Top