ایران سے اپنے پائلٹس واپس لانے میں خدا ہماری رہنمائی کر رہا تھا؛ ٹرمپ

WhatsApp Channel Join Now

امریکی صدر اور وزیر دفاع نے ایران میں پھنسے اپنے دونوں پائلٹس کی بحفاظت واپسی کے ریسکیو آپریشن کی تفصیلات پریس کانفرنس میں بتائیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران سے امریکی پائلٹوں کی ریسکیو آپریش کے ذریعے بحفاظت واپسی کو خدا کی رہنمائی قرار دیا۔

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ ایران میں پھنسے ہمارے پائلٹس کی بحفاظت واپسی حیران کن واپسی کے لیے کی گئی ریسکیو کارروائی غیر معمولی نوعیت کی تھی جس میں خدا ہمارے ساتھ تھا۔ 

امریکی وزیر دفاع نے بتایا کہ ایک پائلٹ نے شدید خطرے میں چھپے رہنے کے دوران پہلا پیغام “خدا مہربان ہے” بھیجا تھا۔

اسی پریس کانفرنس میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ لاپتا پائلٹ کو تلاش کرنا صحرا میں ریت کے ایک ذرے کو ڈھونڈنے کے مترادف تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ایجنسی نے انسانی اور تکنیکی ذرائع سے پائلٹ کی موجودگی کی تصدیق کی اور ایک خفیہ حکمت عملی کے ذریعے ایران کو غافل رکھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ بہادر افسر تقریباً 48 گھنٹے تک ایران میں زمین پر گرفتاری سے بچتا رہا۔ پائلٹ ایک پہاڑی دراڑ میں چھپا رہا۔ یہاں تک کہ ریسکیو ٹیم اس تک پہنچ گئی۔

امریکی صدر نے ایران میں پھنسے اپنے فوجی اہلکاروں کو نکالنے کے لیے کیے گئے آپریشن کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے فوج کو ہر ممکن اقدام کی ہدایت دی تھی تاکہ اپنے اہلکاروں کو بحفاظت واپس لایا جا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ اس ریسکیو مشن میں اکیس امریکی فوجی طیارے استعمال کیے گئے جبکہ دوسرے بڑے آپریشن میں ایک سو پچپن طیارے شامل تھے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اس دوسرے مشن میں چار بمبار طیارے چونسٹھ لڑاکا طیارے اڑتالیس ایندھن فراہم کرنے والے طیارے اور تیرہ ریسکیو طیارے شریک تھے۔

صدر نے ریسکیو مشن کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے امریکی مسلح افواج کو یہ حکم دیا تھا کہ پھنسے ہوئے فضائیہ کے اہلکار کو واپس لانے کے لیے جو بھی ضروری ہو، کیا جائے۔

انھوں نے فخر سے کہا کہ اس مشن میں غیر معمولی خطرات مول لیے لیکن کسی بھی ریسکیو اہلکار کو چوٹ نہیں آئی۔

 

 



Source link

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!
Scroll to Top