امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں امریکی کانگریس کی عمارت کے قریب ایک متنازع مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بدنام زمانہ سرمایہ کار جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کو ٹائٹینک فلم کے مشہور منظر کی طرح دکھایا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس مجسمے کا نام ’کنگ آف دی ورلڈ‘ رکھا گیا ہے اور اسے ایک گمنام فنکار یا فنکاروں کے گروپ نے نصب کیا ہے جو دی سیکرٹ ہینڈ شیک کے نام سے کام کرتا ہے۔
اس مجسمے میں ٹرمپ کو ایپسٹین کو تھامے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ منظر ہالی ووڈ فلم ٹائٹینک کے مشہور سین سے متاثر ہے جس میں فلم کے کردار جہاز کے اگلے حصے پر کھڑے ہوتے ہیں۔
مجسمے کے ساتھ لگے ایک تختی میں لکھا گیا ہے کہ یہ یادگار ٹرمپ اور ایپسٹین کے درمیان تعلقات پر طنز کے طور پر بنائی گئی ہے۔ اس کے اطراف میں ایپسٹین اور ٹرمپ کی تصاویر والے بڑے بینرز بھی لگائے گئے ہیں۔
A new statue of President Trump and convicted sex offender Jeffrey Epstein has popped up again on the National Mall in Washington, D.C.
Titled “The King of the World,” the monument draws inspiration from Jack and Rose in “Titanic.” pic.twitter.com/MlL6leXBCt
— The Washington Post (@washingtonpost) March 10, 2026
رپورٹس کے مطابق یہ مجسمہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی محکمہ انصاف نے حال ہی میں ایپسٹین کیس سے متعلق کچھ خفیہ ایف بی آئی دستاویزات جاری کیں جن میں ٹرمپ کے خلاف بھی الزامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
A new art installation by the anonymous artist collective Secret Handshake appeared this week on the National Mall in Washington, DC, depicting figures representing President Trump and the late financier Jeffrey Epstein pic.twitter.com/qYrqsoHk8y
— Reuters (@Reuters) March 11, 2026
یہ پہلا موقع نہیں کہ مذکورہ گمنام فنکار گروپ نے ٹرمپ اور ایپسٹین کے تعلقات پر تنقیدی فن پارے پیش کیے ہوں، اس سے پہلے بھی اسی گروپ کی جانب سے اس نوعیت کے مجسمے اور تنقیدی فن پارے نصب کیے جا چکے ہیں۔

Muhammad Ramzan is a Pakistani journalist, digital content creator, and blogger with 7 years of experience in online media. He writes clear, well-researched, and easy-to-read articles on Islamic topics, Ramadan initiatives, government welfare programs, and community issues. Known for his authentic and heartfelt style, he connects deeply with readers across Pakistan.




