سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں نے جہاں مشرق وسطی میں عدم استحکام پیدا کردیا ہے وہیں دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے خدشات سے بھی دوچار کردیا ہے۔ روس نے اس سلسلے میں امریکہ کو وارننگ بھی دی ہے اور سعودی عرب سے دفاعی معاہدے ہونے کے باعث سعودی عرب پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں پاکستان بھی ایک سخت امتحان سے دوچار ہوگیا ہے۔
جون کی 12 روزہ جنگ کی طرح اس بار بھی منصوبہ بندی اور امریکہ کی آشیر باد کے تحت اسرائیل نے عمان میں جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرتے ہوئے ایران پر حملہ کردیا اور ابتدائی ائیر سٹرائکس میں ہی انٹیلیجنس کی بنیاد پر ایران کو آیت اللہ خامنائی اور اہم ایرانی کمانڈر کوشہید کرکے بڑے نقصان سے دوچار کردیا۔ اس کے باوجود ایران نے جوابی حملوں میں جہاں اسرائیل کے مختلف شہروں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا وہیں بحرین سعودی عرب یو اے ای اور قطر میں امریکی اڈوں پر بھی میزائلوں سے حملہ کردیا جس کی وجہ سے ان ممالک کی حکومتوں نے بھی ایران کے خلاف ردعمل دیا ہے۔
اس صورتحال نے ایران کو مشرق وسطی میں تنہائی سے دوچار کر دیا ہے۔ادھر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے جواز کو بار بار تبدیل کرنے کو امریکہ اور دیگر ممالک میں شک وشبہ سے دیکھتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک امریکی سینیٹر نے اسے غیر قانونی جنگ قرار دیا ہے جبکہ اپوزیشن نے سینیٹ میں اس جنگ کے خلاف قرارداد پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سپین نے امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے جبکہ برطانیہ نے ابتداء میں میں پس وپیش کے بعد محدود سطح پر تعاون کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ بار بار موجودہ ایرانی رجیم کی تبدیلی اور اپنی مرضی کی قیادت لانے کی بات کرتے ہوئے ایرانی عوام کو بغاوت کرنے پر اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی حکومتی ڈھانچے اور مخصوص سیٹ اپ کے پیش نظر یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا۔ امریکہ اور اسرائیل کوشش کے باوجود اس مقصد میں پہلے بھی ناکامی کا شکار ہوچکے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے شدید حملوں اور ایران میں ہونے والے بڑے نقصان کے باوجود ٹرمپ کے دعووں کے باوجود یہ جنگ طوالت اختیار کرتی ہو ئی نظر آرہی ہے اور ایران کی کوشش بھی یہی ہے کہ یہ جنگ طوالت اختیار کرے اور امریکہ یورپ مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر کے ممالک پر ایک اقتصادی دباؤ آئے اور وہ امریکہ اور اسرائیل پر جنگ بند کرنے کیلئے دباؤ ڈالیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بھی اسی مقصد کیلئے بند کیا ہے جس کی وجہ مشرق وسطی سے پٹرولیم مصنوعات اور دیگر ممالک کے مابین تجارتی سامان کی تر سیل بند ہو گئی ہے۔ ہزاروں بحری جہاز اس چینل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کا اعلان کیا ہے۔ ان حالات میں امریکا اسرائیل اور ایران نے طویل جنگ کی تیاریاں کر لیں ہیں۔بدھ کے روز تک اسرائیل اور امریکا نے ایران کے 153 شہروں میں 504 مقامات پر حملے کیے، تہران میں سو طیاروں کے ذریعے لیڈر شپ کمپلیکس پر حملہ کیا گیا۔
اسرائیل نے ایرانی کے صدارتی آفس، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی عمارت اور عسکری ٹریننگ سینٹر پر حملے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
کرمان، اصفہان اور شیراز میں بھی حملے کئے گئے، جگہ جگہ دھماکے ہو رہے ہیں، ایران پر حملوں میں پاسداران انقلاب کے 18 اہلکار شہید ہوئے، سیاسی و عسکری عہدیداروں سمیت شہدا کی مجموعی تعداد 787 ہوگئی۔
ایرانی شہر میناب میں سکول پر حملے میں شہید طالبات کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور اسرائیل اور امریکا کے خلاف نعرے بازی کی، گرلز سکول پر حملے میں 165 طالبات شہید ہوئیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے ایران کا ایئر ڈیفنس، فضائیہ، بحریہ اور قیادت ختم ہوچکی، ایران بات کرنا چاہتا ہے لیکن میں نے کہا اب بہت دیر ہوچکی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سفارتکاری کے دعویداروں نے فوجی راستہ اختیار کیا، دشمن ہمیشہ کے لیے رسوا ہوں گے۔ وزارت خارجہ کے مطابق عرب ممالک موجودہ صورتحال پر سنجیدگی سے غور کریں، ایران اس وقت برائی کے خلاف کھڑی واحد طاقت ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ حالت جنگ میں ہونے کے باوجود ایران میں حکومتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ صوبائی گورنروں سے براہ راست رابطے میں ہیں، صورتحال غیرمعمولی ہے لیکن ملکی نظام رْکا نہیں ہے، پورے ملک میں معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ آسٹریلوی وزارت دفاع نے ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے دبئی میں امریکی فوجی اجتماع پر حملے کی تصدیق کردی۔ ترجمان آسٹریلوی وزارت دفاع کے مطابق ال منہاد ایئر بیس میں آسٹریلوی فوجی موجود تھے، حملے میں تمام محفوظ ہیں 100 آسٹریلوی اہلکار مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں،زیادہ تر یو اے ای میں ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے حملوں میں 6 امریکی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سینٹ کام کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ امریکی افواج نے اْن دو فوجیوں کی باقیات بھی برآمد کر لی ہیں جو پہلے لاپتہ تھے، 2 لاپتہ فوجی ایران کے ابتدائی حملوں کے دوران مارے گئے تھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکی سفارت خانے پر دو ایرانی ڈرون ٹکرانے کے بعد ڈپلومیٹک کوارٹر میں دو دھماکے بھی سنے گئے۔ ادھر امریکی صدر نے ٹرمپ نے کہا کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا ردعمل جلد دکھائی دے گا اور ردعمل میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بھی بدلہ شامل ہوگا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیپٹل ہل پر 8 ارکان کانگریس کو بریفنگ میں کہا کہ ایران پر اسرائیل حملہ کرنے والا تھا، جواب میں امریکا کے نشانہ بننے کا خدشہ تھا، اگر دفاعی رویہ اپنایا جاتا تو امریکا کو زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑتا۔
رکن کانگریس جواکھم کاسترو نے کہا کہ ایران پر حملے کے لئے اکسا کر اسرائیل نے امریکا کو خطرے میں ڈالا، اسرائیل کو روکنے کے بجائے ٹرمپ انتظامیہ جنگ میں شریک ہوگئی۔ بلومبرگ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور قطر نے اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ ایران کے معاملے پر کشیدگی کم کرنے میں مدد کریں، امارات اور قطر ایک وسیع اتحاد بنانا چاہتے ہیں، تاکہ تنازع کا فوری سفارتی حل نکالا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور قطر خطے میں کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکنا چاہتے ہیں، اور ایسا حل چاہتے ہیں جس سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ روکا جا سکے۔
ٹرمپ نے ایران کی آبدوز سمیت 17 بحری جہاز تباہ کرنے اور امریکا کا مقاصد کے حصول تک کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نئے ایرانی سپریم لیڈر منتخب ہوگئے ہیں۔ چین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی فوری روکی جائے۔ وزیراعظم پاکستان نے جنگ رکوانے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کر دیں ہیں۔ انہوں نے ترک صدر سمیت مشرق وسطی کے دیگر راہنماؤں سے رابطے کئے ہیں اور موجودہ بحران کے حل کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کا عزم کا اظہار کیا ہے اس حوالے اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کیلئے ان کیمرا بریفننگ منعقد کی ہے۔ پاسداران انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ دبئی میں 160 امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں سے 100 ہلاک ہوئے۔ کینیڈا کے وزیراعظم کا مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ایران سمیت مشرق وسطیٰ میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔ ایران نے پاکستان سمیت تمام ملحقہ ممالک کی سرحدیں بند کردیں ہیںخطے میں جنگی صورتحال کے باعث پاکستان میں فلائٹ شیڈول متاثر ہوا تھا تاہم اب اسے بحال کردیا گیا ہے۔
اس کشیدگی کے باعث پاکستان میں سائبر حملوں کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے اور پاکستان میں آنے والے دنوں میں دفاعی سطح پر خطرات کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان اگلا نشانہ ہوسکتا ہے لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس امکان کو سختی سے رد کیا ہے۔تاہم یہ پہلو ضرور تشویش ناک ہے کہ اگر ایرانی رجیم کی تبدیلی کی صورت میں اسرائیل ایران میں آ کر بیٹھ جاتا ہے تو یقیناً پاکستان کے خطرات میں شدید اضافہ ہوسکتاہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ بورڈ آف پیس بنا کر غزہ اور دنیا میں امن قائم کرنے اور آٹھ جنگیں رکوانے کے دعویدار ٹرمپ ایران سے جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کر پاتے ہیں یا پھر یہ جنگ پھیل کر ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ پاکستان کے سامنے ایک غیر معمولی چیلنج ہے کہ وہ ان حالات میں کس طرح سے ایران، امریکہ، چین، سعودی عرب اور مشرق وسطی کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو کامیابی کے ساتھ چلا تا ہے۔

Muhammad Ramzan is a Pakistani journalist, digital content creator, and blogger with 7 years of experience in online media. He writes clear, well-researched, and easy-to-read articles on Islamic topics, Ramadan initiatives, government welfare programs, and community issues. Known for his authentic and heartfelt style, he connects deeply with readers across Pakistan.




