کراچی:
سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن نے صوبائی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی عدم تکمیل پر شدید تنقید کی۔
اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی صدارت سندھ اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہوا، جس میں آج دوسرے روز بھی بجٹ پر بحث جاری رہی۔ رکن اسمبلی نور محمد نے کہا کہ مشکل حالات میں بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ کم وسائل کے باوجود سندھ حکومت نے ترقیاتی کام مکمل کیے ہیں مگر مزید کام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے۔
نور محمد بھرگڑی نے کہا کہ نواب شاہ سے آنے والے ڈرینیج سسٹم کو بہتر کیا جائے۔ یہ آبپاشی کا منصوبہ ہے نہروں کے پل ٹوٹے ہوئے ہیں، پلوں کی وجہ سے حادثات ہوئے ہیں۔ سندھ میں نہری پانی کی شدید قلت ہے۔ وفاق کی جانب سے سندھ کے فنڈز میں کٹوتی سے افسوس ہوا ہے، اس سے ترقیاتی کام متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم پر تنقید کی جاتی ہے کہ مسلسل حکومت ملی ہے اور ہم نے کام نہیں کیے، حقیقت یہ ہے کہ ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ میرپورخاص میں بارشوں سے نقصان ہوا، اسکولوں اور اسپتالوں کو نقصان ہوا۔ وزیر تعلیم نے اسکول تعمیر کرائے، مزید اسکولوں کی مرمت جاری ہے۔
نور محمد بھرگڑی کا کہنا تھا کہ پانی کی کمی ہے، پانی کی وارا بندی ہو رہی ہے، دریائے سندھ سے کمی کو ختم کیا جائے۔ مزید فنڈز ملے تو ہمارے نامکمل منصوبے مکمل کرائے جائیں، ہمیں میگا پروجیکٹ دیے جائیں۔ وزیراعلیٰ سے مطالبہ ہے کہ روڈز مکمل کرائے جائیں۔ ڈرینیج اور سم نالے درست کیے جائیں، جہاں ٹوٹ گئے ہیں وہاں حادثات ہوئے ہیں، وہاں پل بنا کر دیے جائیں۔
یوسف بلوچ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور کابینہ کو بجٹ پیش کرنے پر مبارک دیتا ہوں۔ خراب معاشی حالات میں متوازن بجٹ پیش کیا گیا، سندھ بجٹ عوام دوست بجٹ ہے۔ شرجیل میمن کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے پنک بس اور اسکوٹیاں دی گئی ہیں، یہ سب انقلابی اقدامات ہیں۔ لیاری میں ڈرگ مافیا اور گٹکا کا راج تھا، منشیات پر 60 فیصد کنٹرول ہوا ہے، لیاری میں 40 فیصد منشیات ابھی بھی موجود ہے۔ لیاری میں فٹبال کی بڑی اسکرین لگائی گئی، نوجوان رات بھر فٹبال سے محظوظ ہوتے ہیں۔
یوسف بلوچ کا کہنا تھا کہ لیاری بدل گیا ہے، اب لیاری میں مکمل امن ہے۔ لیاری کو بلاول بھٹو نے 25 ارب کے منصوبے دیے، تعمیراتی کام کا ٹھیکہ ٹینڈر ہو چکا ہے۔ مون سون ہے، ترقیاتی کاموں میں تیزی لائی جائے۔
رکن اسمبلی ملیحہ منظور نے کہا کہ ایف بی آر کی وجہ سے صوبوں کا بجٹ کم ہوا ہے۔ سندھ اس وقت 250 ارب روپے کا شارٹ فال ہے۔ وفاق کو 260 ارب روپے سندھ حکومت دے گی، مجموعی شارٹ فال 600 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ وفاقی حکومت پیٹرول، گیس، بجلی کو مہنگا کرتی رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں اس وقت 40 فیصد پانی کی قلت ہے۔ پانی زندگی ہے، سندھ سے اس کی زندگی مت چھینی جائے۔ بجٹ سنے بغیر یہاں پر احتجاج کیا گیا۔ بجٹ میں ووٹ دینے کے لیے گورنر شپ کا مطالبہ کیا گیا، کیا گورنر شپ کے لیے ووٹ کی قیمت لگائی گئی ہے؟
حنا دستگیر نے کہا کہ یہ بجٹ اس وقت لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہے۔ لوگوں کو تنخواہیں بڑھنے کی امید تھی، آصف زرداری نے سب سے زیادہ تنخواہ بڑھائی تھی۔ اس وقت این ایف سی ایوارڈ پر شور ہو رہا ہے۔ سندھ میں تعلیم اور صحت پر سب سے زیادہ پیسے رکھے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ پڑھے لکھے، مالی معاملات کے ماہر ہیں۔ پیپلز پارٹی نے این ایف سی ایوارڈ پر مصلحت نہیں کی۔ سندھ میں دیہی اور شہری علاقوں میں کام ہو رہا ہے۔
فہیم پٹنی نے کہا کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ بلدیہ فیکٹری میں سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا ہے۔ ایم کیو ایم کا بلدیہ فیکٹری میں کوئی کردار نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، اندازہ ہو رہا ہے کہ 18 سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا۔ جب ہم آرٹیکل 140 اے کی بات کرتے ہیں تو سندھ حکومت راضی نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم پر عمل نہیں ہو رہا، وفاق سے پیسے لے کر صوبے تقسیم نہیں کرتے۔
ریحان بندوکڑا نے کہا کہ میرے حلقے کی تمام کالونیوں میں بے تحاشا مسائل ہیں۔ 16 گھنٹے تک بجلی نہیں ہوتی، کے الیکٹرک سی ای او کو شکر ہے نکالا گیا، کے الیکٹرک کا سی ای او جنسی ہراسمنٹ میں ملوث تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پروجیکٹس کے لیے بجٹ میں صرف پیسے رکھے جاتے ہیں، ہم صرف باتیں کر رہے ہیں، باتوں سے یہ شہر نہیں چل سکتا۔ جو بچے پیدا ہو رہے ہیں وہ غذائی قلت کے شکار ہیں، 50 فیصد بچے چھوٹے قد کے پیدا ہو رہے ہیں۔
ریحان بندوکڑا کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس کا حال برا ہے۔ وزیر داخلہ کو کئی بار گزارش کی ہے، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں۔ کراچی ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ کراچی کو کہاں لے کر جانا ہے۔ 50 فیصد کام آپ کریں، ہم کراچی کو سنبھال لیں گے۔
سیدہ ماروی راشدی نے کہا کہ بجٹ پیش کرتے وقت غیر سنجیدگی دیکھی گئی۔ تقریر سنے بغیر بائیکاٹ کرکے اپنے عوام سے زیادتی کی گئی، رنگ میں بھنگ ملانے کی کوشش کی گئی۔ آپ بجٹ کو چھوڑیں، آپ نے اپنے دور حکومت میں کیا کیا ہے؟ آپ نے کوئی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسا منصوبہ دیا؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آپ نے کبھی تھر کول جیسا منصوبہ دیا ہے؟ آپ نے کبھی کراچی کو کوئی بڑی شاہراہ دی ہے؟ شاہراہ فیصل بھی ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا۔ تاریخی ایمپریس مارکیٹ کی بحالی کا ہماری جماعت نے سوچا ہے۔ سندھ پیپلز ہاؤسنگ اسکیم کوئی معمولی پروگرام نہیں ہے۔
ماروی راشدی کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال بہترین ہے۔ شکار پور، گھوٹکی، جیکب آباد سے ڈاکوؤں کا خاتمہ بڑا کام ہے۔ ڈرگ ہر گھر تک پہنچ رہی ہے، ڈرگز میں جو بھی ملوث ہے اس کو سخت سزائیں دی جائیں، ان سزاؤں کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ سندھ کے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف احتجاج کرتی ہوں۔
پیر مجیب الحق نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر قائم رہے۔ دوسروں نے ریاست مدینہ کی بات کی ہے، پیپلز پارٹی کی حکومت نے لاکھوں افراد کو سہولت دی۔ جو دوست کہتے ہیں وہ کراچی بنائیں گے، جو تنقید کرتے ہیں وہ ہمیشہ وفاقی حکومت میں ہوتے ہیں۔
آغا شہباز درانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے آئندہ مالی سال بجٹ میں عوام دوست اقدامات کیے ہیں۔ ملازمین کی 7 فیصد تنخواہوں میں اضافہ قابل ستائش ہے۔ شاہراہ بھٹو، بے نظیر ہاری کارڈ سمیت دیگر اقدامات عوام دوست ہیں، پنک اسکوٹی خواتین کی خودمختاری کے لیے اہم قدم ہے۔
ریحانہ لغاری نے کہا کہ سندھ ہمارے لیے مقدس سرزمین ہے، سندھ اولیائے کرام کی دھرتی ہے۔ جب بھی سندھ میں بحران آیا ہماری قیادت نے بحران سے نکالا۔ ٹھٹھہ سجاول روڈ کو ڈبل روڈ کیا جائے۔ شرجیل میمن سے گزارش کروں گی خواتین ٹیچرز کو ٹرانسپورٹ دی جائے، سجاول میں یونیورسٹی کیمپس یا لا کالج بنایا جائے۔
ڈاکٹر فوزیہ حمید نے کہا کہ سب اچھا نہیں ہے، لوگ پانی کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ نہ پانی ہے، نہ بجلی ہے، نہ گیس ہے۔ لوگ عزاداری چھوڑ کر پانی کے ٹینکرز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ بجٹ میں عوامی فلاح کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ کراچی کے لیے 100 ارب روپے منصوبے ہیں، کراچی 95 فیصد ریونیو دیتا ہے، کراچی کا حق اس کو نہیں مل رہا ہے۔
ندا کھوڑو نے کہا کہ یہ بجٹ نہیں بلکہ مزاحمت کی نشانی ہے۔ گل پلازہ جیسے سانحات ہوئے، دباؤ میں لوگ جھک جاتے ہیں۔ سیلاب، مہنگائی کے باوجود بھی سندھ میں 900 منصوبے مکمل کرائے ہیں۔ بڑے اسپتالوں کو فنڈز دیے جس میں لاکھوں مریض آتے ہیں۔ 1122 سروس شاندار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کی آبادی بڑھ رہی ہے، اس سے ہر شعبہ میں دباؤ آتا ہے، خاندانی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ ابھی تک 10 لاکھ گھر تعمیر کر دیے گئے ہیں، باقی 10 لاکھ گھر تعمیر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سندھ میں اور وفاق میں حکومت میں رہے، آپ کے میئر رہے، کراچی کو کیا دیا؟ تنقید حزب اختلاف کا حق ہے مگر تنقید سے متبادل نظام دیں، ہم نے اہم منصوبے مکمل کرائے ہیں۔ ہم نے فلائی اوور اور انڈر پاس دیے ہیں، یہ زمین پر موجود ہیں۔ سندھ کو آئینی طور پر پانی فراہم کیا جائے، این ایف سی میں حصہ دیا جائے۔
ہری رام کشوری لعل نے کہا کہ زرعی شعبے کی حالت خراب ہے۔ اجناس کے نرخ فصل آنے سے پہلے مقرر کیے جائیں، جمڑاو کینال ایسٹ کی لائننگ کی جائے۔ بجلی والے دیہات میں کنڈے لگا کر پیسے لیتے ہیں۔ میرپور خاص ڈویژن کو میڈیکل یونیورسٹی دی جائے۔
سمعیتا افضال سید نے کہا کہ اپوزیشن ہیڈ لائن بنانے کے لیے تنقید کرتی ہے۔ 2008 کے بعد سندھ حکومت نے جناح اسپتال کو سنبھالا ہے۔ جے پی ایم سی آج روبوٹک سرجری ہوتی ہے۔ پنجاب کے 31 فیصد لوگوں کو سندھ کے اسپتالوں نے علاج مہیا کیا، کے پی کے 17 لوگوں کو سندھ کے اسپتالوں نے علاج مہیا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے بھتے، فطرے کی پرچیاں آتی تھیں۔ ٹریفک حادثات میں 30 فیصد کمی ہوئی ہے، ای چالان کی وجہ سے ٹریفک حادثات کم ہوئے ہیں۔ سندھ انٹرنیشنل فنانس سینٹر کراچی میں بنے گا۔ عوام دیکھ رہے ہیں کہ کس نے ترقیاتی کام کروائے ہیں، عوام یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ کس نے صرف نعرے لگائے ہیں۔
ساجد میر کا کہنا تھا کہ آج سندھ کا تعلیم یافتہ ڈگری لے کر نوکری کے لیے بھٹک رہا ہے۔ کراچی پاکستان کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے۔ کراچی سے ہر دور میں نا انصافی کی گئی ہے۔ اس وقت کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا مسئلہ ہے۔ 26 سال میں کے فور کا منصوبہ مکمل نہیں ہوا ہے۔ کراچی سیف سٹی منصوبے پر اربوں روپے لگائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیا کراچی میں جرائم ختم ہو گیا ہے؟ سیف سٹی کیمروں کی توسط سے کتنے ملزم پکڑے گئے ہیں؟ ڈسپنسریوں کی چھتیں گر رہی ہیں۔ وزیر صحت سے ملاقات کرکے انہیں تصاویر دکھائی ہیں۔ کھربوں روپے خرچ ہوئے، کراچی کے عوام پوچھتے ہیں یہ رقم کہاں گئی؟ ہم اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں۔
رکن اسمبلی عبدالباسط نے کہا کہ اینٹی کرپشن ادارہ ہے جو کرپشن کو روکے گا۔ 2022 میں اینٹی کرپشن کمپلیکس بننا تھا، مذکورہ کمپلیکس ابھی تک نہیں بنا ہے۔ ٹھیکیداروں کو نوازا جاتا ہے، یہ ٹھیکیدار کون ہیں؟ بی آر ٹی ریڈ لائن بہتر ہونے کے دعوے ہو رہے ہیں۔ 8 ارب سے زائد رقم ایک افسر کھا چکا ہے تو حال کیا ہے۔ تعلیم سے سندھ بدلے گا، آپ سے پڑھا لکھا سندھ برداشت ہوگا۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجائے صنعتیں لگائی جائیں۔
ہیر سوہو نے کہا کہ سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے۔ سندھ کی زراعت کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ سجاول، ٹھٹھہ، بدین، ٹنڈو محمد خان کے اضلاع زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔ اپوزیشن والے جس ضلع میں چاہیں چلیں، ہم ان کو بنائے ہوئے گھر دکھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 10 لاکھ گھر پیپلز ہاؤسنگ اسکیم کے تحت بن گئے ہیں۔ گلشن حدید سے آگے ٹھٹھہ کی طرف پیپلز بس سروس شروع کی جائے۔ کچھ لوگ کہتے تھے صوبہ دیدو، کراچی کو وفاق کے حوالے کر دیں، جب سندھ کی تقسیم کی بات ہوگی تو سندھ کی خواتین بھی جنگ کریں گی۔

Muhammad Ramzan is a Pakistani journalist, digital content creator, and blogger with 7 years of experience in online media. He writes clear, well-researched, and easy-to-read articles on Islamic topics, Ramadan initiatives, government welfare programs, and community issues. Known for his authentic and heartfelt style, he connects deeply with readers across Pakistan.




