بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان آج ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل کے ٹکٹوں کی قیمتیں بلیک مارکیٹ میں بڑھ گئی ہیں جب کہ احمد آباد میں بڑے مقابلے سے قبل طلب میں اضافے کے باعث شائقین اصل قیمت سے 15 گنا زیادہ ادائیگی کر رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 2 ہزار بھارتی روپے سے شروع ہونے والے آفیشل ٹکٹ بک مائی شو پر چند منٹوں میں فروخت ہو گئے، جس کے بعد ہزاروں شائقین دیگر راستوں کا رخ کرنے لگے، 3500 روپے والا ٹکٹ اب 54 ہزار روپے میں بک رہا ہے۔
ذخیرہ اندوزوں نے ری سیل مارکیٹ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور ریٹ کو اصل قیمت سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے جب کہ شائقین دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ اسٹیڈیم میں بیک ٹو بیک ٹائٹل کے لیے بھارتی ٹیم کو کھیلتے دیکھنا چاہتے ہیں۔
ممبئی کے ایک تاجر نے کہا جی میں نے 3000 روپے کے ٹکٹ کے لیے 35 ہزار روپے ادا کیے کیونکہ میں ویٹنگ لسٹ سے بچنا چاہتا تھا۔
مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ احمد آباد پولیس نے ایک نوجوان کو مہنگے داموں ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت پر گرفتار کیا۔
دہلی کے رہائشی نے کہا، یہ صورتحال ہمارے لیے نئی نہیں ہے، ہم نے 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے دوران بھی بہت زیادہ قیمتیں ادا کیں۔
گجرات کرکٹ ایسوسی ایشن (جی سی اے) نے کہا کہ باہر کیا ہو رہا ہے اسے اس کا کوئی علم نہیں ہے، بکنگ صرف ’بک مائی شوایپ‘ کے ذریعے ہوتی ہے۔ کرکٹ ایسوسی ایشن کوئی فزیکل ٹکٹ فروخت نہیں کرتی۔
دوسری جانب احمد آباد کے ہوٹل بھی کرکٹ کے بخار سے پیسہ کمانے کے لیے میدان میں ہیں اور کرائے کم از کم 10 گنا بڑھ چکے ہیں جب کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود گراؤنڈ کے قریب رہائش گاہیں مکمل طور پر بک کی جا چکی ہیں۔
ممبئی-احمد آباد ہائی وے کے ساتھ اور قریبی گاندھی نگر میں بجٹ ہوٹل، جو عام طور پر 4000 روپے فی رات چارج کرتے ہیں، اب 40 ہزار کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مقامی ہوٹل کے مالک نے کہا کہ یہ منافع کمانے کا ہمارا بہترین وقت ہے کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ میچ دیکھنے آتے ہیں۔
ایک اور ہوٹل کے مالک نے کہا کہ اگر بھارت فائنل کے لیے کوالیفائی نہ کرتا تو رش بہت کم ہوتا۔

Muhammad Ramzan is a Pakistani journalist, digital content creator, and blogger with 7 years of experience in online media. He writes clear, well-researched, and easy-to-read articles on Islamic topics, Ramadan initiatives, government welfare programs, and community issues. Known for his authentic and heartfelt style, he connects deeply with readers across Pakistan.




